دورِ حاضر میں بریلی شریف کو ’’مرکزِ علم و ادب‘‘ قرار دینے کے دلائل

مأخذِ علمی کی بنیاد پر ہم اہلِ سنت کا "مرکزِ علم و ادب "بریلی ہی ہے

(دورِ حاضر میں بریلی شریف کو ’’مرکزِ علم و ادب‘‘ قرار دینے کے دلائل)

دورِ حاضر میں امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور ان کی تصانیف مأخذ و مصادر کی حیثیت رکھتی ہیں ، اسی نسبت سے ہم اہلِ سنت بریلی شریف کو علم و تحقیق کا شہر کہتے ہیں اور ہمارے علما ، مشائخ ، ائمہ اور تحقیق کاروں کی اکثریت شہرِ بریلی کو " مرکزِ علم و ادب " کا نام دیتے ہیں ۔ اور اس میں کسی صاحب کو کوئی تردد بھی نہیں ہونا چاہئے کہ برصغیر کی علمی ، فقہی اور روحانی تاریخ میں بریلی شریف کو جو امتیازی مقام حاصل ہے ، وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ دورِ حاضر میں جب بریلی شریف کو " مرکزِ علم  " کہا جاتا ہے تو اس کے پس پشت کوئی جذباتی وابستگی نہیں ، بلکہ ایسے ٹھوس ، مستند اور متحقق دلائل موجود ہیں جو اس دعوے کو مکمل استناد فراہم کرتے ہیں ۔ یہ دلائل براہِ راست امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم الشان علمی شخصیت ، ان کی ہمہ جہت تصانیف ، علومِ جدیدہ و قدیمہ میں مہارت اور ان کے قائم کردہ علمی تسلسل سے مربوط ہیں۔

علوم و فنون میں امامِ اہل سنت کی غیر معمولی مہارت:

امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے جس عہد میں آنکھ کھولی ، وہ برصغیر میں فکری و اعتقادی خلفشار اور علمی اضطراب کا دور تھا ۔ ایسے حالات میں آپ نے نہ صرف علومِ نقلیہ ، فقہ ، حدیث ، تفسیر ، منطق ، اصول اور کلام میں غیر معمولی دسترس حاصل کی بلکہ علومِ جدیدہ جیسے ریاضیات ، فلکیات ، ہئیت ، سائنس ، ارضیات ، جغرافیہ اور جدید فنی آلات پر بھی حیرت انگیز مہارت ظاہر فرمائی ۔ اور یہ مہارت محض مطالعے تک محدود نہیں رہی ، بلکہ علمی نتائج اور فقہی احکام کی صورت میں ظاہر ہوئی ، جس نے اس دور کے نامور سائنس دانوں اور معاصر اہلِ تحقیق کو بھی متوجہ کیا ۔

جدید سائنسی مباحث پر شرعی وفقہی تصانیف:

امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بصیرتِ ربانی سے جدید سائنس اور اس کے زیرِ اثر پیدا ہونے والے مسائل کو قرآن و سنت کے معیار پر پرکھتے ہوئے نہایت جامع اور مدلل تحریریں دیں ۔ ان میں خصوصاً گراموفون جیسے جدید آلے کے شرعی احکام پر اولین تحقیقی تحریر اگر کسی کی ہے تو وہ آپ کی تحقیق کا عطیہ ہے ۔

اسی طرح فلسفے کے بعض گمراہ کن نظریات کی آپ نے مدلل علمی تردید فرمائی اور اسلامی نقطۂ نظر کی بنیاد پر جامع خلاصہ لکھا جس کا نام ہے ۔ " الکلمۃ الملھمۃ فی الحکمۃ المحکمۃ لوھاءِ فلسفۃ المشئمۃ " یوں ہی علمِ ہئیت اور حرکتِ زمین کے مسئلے پر اسلامی و سائنسی دلائل کا حسین امتزاج دیکھنا ہو تو آپ کو امامِ اہل سنت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف کا مطالعہ کرنا چاہئیے اور اس کتاب کا نام ہے ۔  " فوزِ مبین در حرکتِ زمین " اور معین مبین بہر دورِ شمس و سکونِ زمین " اور الحمد للہ! یہ تصانیف محض مذہبی نوعیت کی نہیں بلکہ سائنسی حوالہ جات ، منطقی استدلال اور تجرباتی شواہد کی روشنی میں مرتب کی گئیں ہیں ، جس کا اعتراف غیر مسلم محققین تک نے کیا ہے ۔

فکری و اعتقادی رسوخ اور گمراہ فرقوں کا علمی ابطال :

شہرِ بریلی کو ’’مرکزِ علم‘‘ کہنے کا ایک اہم سبب امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی وہ محققانہ بصیرت ہے جس سے آپ نے گمراہ فرقوں خصوصاً نیچری ، وہابی ، دیوبندی ، شیعہ اور قادیانی افکار کا علمی رد فرمایا۔ اور یہ رد تعصب و جذبات سے خالی ، خالص علمی دلیل ، مستند حوالہ اور تحقیق کی بنیاد پر قائم تھا ۔ آپ کی تصانیف مثلاً فتاویٰ رضویہ شریف ، احکامِ شریعت اور السوء الحسن وغیرہ آج بھی عقائدِ اہلِ سنت کے استحکام میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں ۔

فتاوی رضویہ کا استنادی مقام :

ایک مستند مأخذ و مصدر کی حیثیت سےاہلِ سنت کی علمی دنیا میں فتاویٰ رضویہ کو وہ مقام حاصل ہے جو جامعیت ، تحقیق ، استدلال اور فقہی بصیرت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے ۔ امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس عظیم الشان فقہی انسائیکلو پیڈیا میں نہ صرف مسائلِ شرعیہ کا استنباط کیا ، بلکہ قرآن ، حدیث ، فقہِ حنفی ، اقوالِ ائمہ ، اور اکابرِینِ امت کے مستند حوالوں سے ان کی توضیح و تشریح بھی فرمائی ۔ اسی بنا پر یہ مجموعہ آج دنیا بھر کے علما کے لیے ایک معتبر مأخذ ، مضبوط علمی حوالہ اور فقہی اتھارٹی کی حیثیت رکھتا ہے ۔

علمی و ادبی خصوصیات:

فتاوی رضویہ کی جامعیت و ہمہ گیریت پر اگر بات کی جائے تو یہ مجموعہ عبادات سے لے کر معاملات ، معاشرت ، اخلاق ، علمِ کلام ، ردِّ باطل ، اور جدید سائنسی مسائل تک ، ہر موضوع پر مدلل اور محققانہ بحث ملتی ہے۔

 قوتِ دلیل:

ہر حکم کے ساتھ قرآن و حدیث ، فقہِ حنفی ، اقوالِ مجتہدین اور متقدمین کی صریح دلائل ذکر کی گئیں ، جس سے فتاویٰ کو بے مثال علمی استناد حاصل ہو گیا۔

 معیارِ تحقیق:

امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی باریک بینی ، دقیق فقہی نظر اور علمی احتیاط ہر سطر میں محسوس ہوتی ہے ۔ اختلافی مباحث میں اصولی تحقیق اور مضبوط تحریر اس کی امتیازی شان ہے ۔

ادبی جمال:

پاکیزہ ، سلیس ، فصیح اور علمی اردو ادب نے اس عظیم فقہی ذخیرے کو ادبی شاہکار بنا دیا ہے ۔ اسلوب میں دینی رقت ، علمی وقار اور منطقی ترتیب ایک ساتھ جلوہ گر ہیں ۔

ردِّ باطل میں استحضارِ نصوص:

گمراہ فرقوں کے اعتراضات کے علمی محاکمے میں دلائل کی فراوانی اور مضبوط بیانیہ فتاویٰ رضویہ کی خاص خصوصیت ہے۔

عصرِ حاضر کے مسائل پر بصیرت:

جدید ایجادات ، سائنسی مباحث اور نئے پیش آنے والے مسائل پر آپ کی تحقیق اپنی مثال آپ ہے ، جس کی وجہ سے فتاویٰ رضویہ آج بھی زمانی اور عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔

فتاویٰ رضویہ اپنی جامعیت ، تحقیق اور استنادی حیثیت کی بنا پر نہ صرف فقہِ حنفی کا عظیم خزانہ ہے بلکہ علمی دنیا میں ایک ایسا مستند مأخذ ہے جس سے پوری دنیا کے علما آج بھی استفادہ کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔ اسی مأخذ کی بنیاد پر علما ، فضلا ، مشائخ اور فقہائے اسلام شہرِ بریلی کو اہلِ سنت کا علمی مرکز کہتے اور گردانتے ہیں اگر آپ کسی خانقاہ ، جامعہ اور فقیہ کو ان کی خدمات کی بنیاد پر اہلِ سنت کا " مرکزِ علم " قرار دیتے ہیں تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ اس کی حیثیت مأخذ و مصادر کی ہے اگر نہیں تو مأخذ سے انحراف تجاہل عارفہ کے سوا کچھ نہیں ۔

 علمی و روحانی تسلسل کا قیام اور تشییدِ مرکزیت :

امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی عظمت و غلغلہ صرف ان کی ذات تک محدود نہیں رہی ، بلکہ آپ کے خلفاء ، آپ کے علمی تربیت یافتہ شاگرد ، آپ کے خانوادے کے اکابر اور خانقاہِ رضویہ کے وابستگان نے اس علمی چراغ کو مسلسل روشن کئیے رکھا ۔

دارالعلوم منظرِ اسلام ، جامعہ مظہرِ اسلام ، جامعہ نوریہ باقر گنج بریلی ، جامعہ نعمیہ مرادآباد ، جامعہ اشرفیہ مبارکپور ، غریب نواز الہ آباد ، رضا اکیڈمی ، امام احمد رضا اکیڈمی بریلی ، مکتبہ کنزالایمان دہلی ، رضوی تحقیقات اور ہند و پاک کے دیگر علمی مراکز نے آپ کے ورثے کو دنیا بھر تک پھیلایا ۔ یہی تسلسل ہے جس نے بریلی کو برصغیر اور عالمی سطح پر اہلِ سنت کے علمی مرکز کی حیثیت عطا کی ۔

اتباعِ سبیل المؤمنین اور فکرِ رضا کا دوام :

امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی جہت کا بنیادی ستون ’’اتباعِ سبیل المؤمنین‘‘ ہے۔ آپ نے ہر علمی مسئلے کو کتاب و سنت اور اقوالِ ائمۂ اہلِ سنت کی روشنی میں حل فرمایا ، اسی مضبوط منہج کی بنا پر بریلی شریف آج بھی تحقیق کا مأخذ و مصادر اور مرکزِ علم و ادب کا حسین گہوارہ ہے ۔ بلکہ شہرِ بریلی اعتقادی استحکام کا محور اور فقہِ حنفی کے احیاء کا بنیادی مرکز ہے ۔  یہی منہج اہلِ سنت کے علما و محققین کے نزدیک اس شہر کی علمی مرکزیت کا بنیادی اور ناقابلِ انکار ثبوت ہے ۔

بریلی شریف کی جو علمی مرکزیت ہے وہ جذباتی نعرہ کی بنیاد پر بالکل نہیں ہے بلکہ مستحکم ، تحقیقی اور تاریخی حقائق پر مبنی ہے ۔

امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے علم ، تحقیق ، فقہ ، تصنیف ، سائنسی بصیرت اور دینی غیرت کے ذریعے اس شہر کو وہ مقام عطا کیا جسے آج دنیا ’’مرکزِ علم‘‘ کے نام سے پہچانتی ہے۔ ان کے شاگردوں ، خلفاء ، اداروں اور تحقیقی مراکز نے اس ورثے کو نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ اسے وسعت ، دوام اور نئی نسل تک رسائی فراہم کی ۔

یوں بریلی شریف آج بھی اہلِ سنت کے علمی ، فکری اور روحانی افق پر روشن آفتاب کی طرح درخشاں ہے ۔

یہ اشعار جس نے بھی کہا ہے ، خوب کہا ہے ۔

اے بریلی میرا باغِ جنت ہے تو

یعنی جلوہ گہِ اعلیٰ حضرت ہے تو

بالیقیں مرکزِ اہلِ سنت ہے تو

یہ تیری مرکزیت سلامت رہے

ازقلم: ڈاکٹر مفتی محمد علاؤالدین قادری رضوی ثنائی

صدرافتاء: محکمہ شرعیہ سنی دارالافتاء والقضاء ،پوجانگر میراروڈ ممبئی


ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی